بھارتی معیشت کو امریکی ٹیرف اور خام تیل کی فراہمی میں چیلنجز کا سامنا
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارتی معیشت اور کاروباری شعبے سے متعلق اہم خبریں سامنے آئی ہیں، جن میں امریکی ٹیرف کے بھارتی برآمدات پر پڑنے والے منفی اثرات اور خام تیل کی فراہمی سے متعلق مسائل نمایاں ہیں۔ بھارتی حکومت ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جن میں گھریلو مصنوعات پر جی ایس ٹی میں کمی اور برآمد کنندگان کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان شامل ہے۔
امریکی ٹیرف کا دباؤ اور بھارت کا ردعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی برآمدات پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد بھارتی معیشت کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ یہ ٹیرف خاص طور پر روس سے بڑے پیمانے پر تیل کی خریداری کے جواب میں لگائے گئے ہیں۔ بھارتی وزیرِ تجارت پیوش گوئل نے واضح کیا ہے کہ بھارت کسی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا اور نئی عالمی منڈیوں پر توجہ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ملک بھارت کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ کرنا چاہتا ہے تو بھارت تیار ہے، لیکن وہ دباؤ میں نہیں آئے گا۔
ان محصولات کے نتیجے میں ٹیکسٹائل، زیورات، سمندری خوراک اور چمڑے کی صنعتیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں، اور لاکھوں ملازمتوں کے خطرے میں پڑنے کے خدشات ہیں۔ بھارتی برآمد کنندگان کی تنظیم کے صدر ایس سی رالہان کے مطابق، امریکی خریداروں نے آرڈر منسوخ کرنا شروع کر دیے ہیں، جس سے بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے حریف ممالک کو فائدہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے، بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے متاثرہ برآمد کنندگان کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ، معاشی دباؤ کو کم کرنے اور گھریلو طلب کو بڑھانے کے لیے گھریلو مصنوعات پر گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) میں بھی کمی کی گئی ہے۔ اب صابن سے لے کر چھوٹی گاڑیوں تک ٹیکس میں کمی کی گئی ہے، اور استعمال کی چیزوں پر صرف 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو جی ایس ٹی سلیب ہوں گے۔
ایک امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت ایک یا دو ماہ میں امریکہ سے معافی مانگے گا اور ایک نیا معاہدہ کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ تاہم، بھارت نے روسی تیل کی خریداری جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے کیونکہ یہ معیشت کے لیے زیادہ سازگار ہے۔
روپے کی قدر میں کمی اور تیل کی فراہمی کے مسائل
امریکی ٹیرف کے خدشات اور درآمد کنندگان کی جانب سے ڈالر کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث بھارتی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ انٹربینک مارکیٹ میں روپیہ 88 روپے 10 پیسے پر بند ہوا، جب کہ دن کے دوران یہ 88.33 تک گر گیا تھا۔
معاشی محاذ پر ایک اور بڑا دھچکا یہ ہے کہ سعودی اور عراقی کمپنیوں نے بھارتی کمپنی نیارا (Nayara Energy) کو خام تیل کی فراہمی روک دی ہے۔ یہ قدم روس سے منسلک کاروباری اداروں پر امریکی اور یورپی یونین کی پابندیوں کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ نیارا ریفائنری، جو مہاراشٹر میں واقع ہے، ہر ماہ تقریباً 20 لاکھ بیرل عراقی اور 10 لاکھ بیرل سعودی خام تیل حاصل کرتی تھی، لیکن اگست میں اسے دونوں سپلائرز سے کوئی کھیپ موصول نہیں ہوئی۔ اس کے بعد نیارا ریفائنری اب صرف روسی خام تیل پر انحصار کر رہی ہے، جس سے بھارت کو توانائی کے شعبے میں مزید مشکلات کا سامنا ہے۔
مثبت اشارے
ان چیلنجز کے باوجود، بھارتی معیشت میں کچھ مثبت اشارے بھی دیکھے گئے ہیں۔ ایچ ایس بی سی انڈیا مینوفیکچرنگ پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس (PMI) اگست میں 59.3 پر پہنچ گیا جو گزشتہ 17 سالوں میں سب سے زیادہ بہتری ہے۔ اس کے علاوہ، مقامی حصص بازار میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی، جہاں سینسیکس 554.84 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 80,364.49 پر بند ہوا جبکہ نفٹی 198.20 پوائنٹس بڑھ کر 24,625.05 تک پہنچ گیا۔