گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارتی معیشت اور کاروباری شعبے میں کئی اہم پیشرفتیں سامنے آئی ہیں۔
جی ایس ٹی کی شرحوں میں کٹوتی اور اس کا اثر
حکومت ہند نے عام آدمی اور متوسط طبقے کے استعمال کی اشیاء پر گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرحوں میں نمایاں کمی کا اعلان کیا ہے۔ یہ تبدیلیاں 22 ستمبر سے نافذ العمل ہوں گی۔ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے زور دیا ہے کہ کمپنیوں کو ان کٹوتیوں کا فائدہ صارفین تک پہنچانا چاہیے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اقدام گھریلو کھپت کو فروغ دے گا اور معاشی نمو میں اضافہ کرے گا۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ جی ایس ٹی کی شرحوں میں اس کمی سے جی ڈی پی کی نمو میں 60 بنیادی پوائنٹس کا اضافہ ہو سکتا ہے اور خوردہ افراط زر میں تقریباً 100 بنیادی پوائنٹس کی کمی آ سکتی ہے۔ خاص طور پر، آٹو سیکٹر میں جی ایس ٹی میں کمی کے بعد تیزی دیکھنے میں آئی ہے، جس سے گاڑیوں، دو پہیوں والی گاڑیوں اور آٹو پارٹس پر ٹیکس کم ہو گیا ہے۔
امریکی ٹیرف کا اثر اور جوابی اقدامات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی اشیاء پر 50 فیصد ٹیرف (27 اگست سے نافذ) کا اطلاق تشویش کا باعث بنا ہوا ہے، خاص طور پر ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبوں کے لیے۔ تمل ناڈو کے تروپور اور کرور جیسے مینوفیکچرنگ مراکز میں آرڈرز کی منسوخی اور ملازمتوں کے نقصان کی اطلاعات ہیں۔ بھارت اس دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے اندرونی اصلاحات، بشمول جی ایس ٹی ایڈجسٹمنٹ، پر کام کر رہا ہے تاکہ برآمد کنندگان کو مدد فراہم کی جا سکے۔ وزیر خزانہ سیتارمن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ بھارت اپنے قومی مفاد میں روسی تیل خریدنا جاری رکھے گا۔
مضبوط جی ڈی پی نمو اور بینکنگ سیکٹر کی بہتری
مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی (اپریل-جون) میں بھارت کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں 7.8 فیصد کی توقع سے بہتر شرح سے اضافہ ہوا ہے، جو کئی سہ ماہیوں کی بلند ترین سطح ہے۔ اس کے علاوہ، بھارتی شیڈولڈ کمرشل بینکوں نے اثاثوں کے معیار میں نمایاں بہتری دکھائی ہے، جہاں 31 مارچ 2025 تک مجموعی نان پرفارمنگ اثاثے (NPAs) 2.3 فیصد اور خالص NPAs 0.5 فیصد تک کم ہو گئے ہیں۔ معروف کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی S&P نے 18 سال بعد پہلی بار بھارت کی طویل مدتی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو اپ گریڈ کیا ہے۔
روپے کی کارکردگی اور دیگر کاروباری خبریں
بھارتی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی کم ترین سطح پر پہنچنے کے بعد 88.09 پر بند ہوا، تاہم اس میں قدرے بحالی دیکھنے میں آئی۔ روپے کی اس اتار چڑھاؤ کی ایک وجہ غیر ملکی فنڈز کا اخراج اور بھارتی آئی ٹی سیکٹر پر امریکی ٹیرف سے متعلق خدشات ہیں۔ کاروباری خبروں میں یہ بھی شامل ہے کہ یونائیٹڈ پیمنٹس انٹرفیس (UPI) کی لین دین کی حد کو 24 گھنٹوں کے لیے 10 لاکھ روپے تک بڑھا دیا گیا ہے، جو 15 ستمبر سے نافذ العمل ہو گی۔ اس کے علاوہ، مرکزی ٹیکسٹائل وزیر گریراج سنگھ نے جیوٹ فائبر کے مرکب سے برآمدات کو فروغ دینے اور نئے دور کے فیشن کو فروغ دینے کی صلاحیت پر زور دیا، جس میں جیوٹ صنعت میں جدت اور تکنیکی تبدیلیوں کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔