امریکی ٹیرف کے باعث بھارتی روپے میں ریکارڈ گراوٹ
29 اگست 2025 کو نئی دہلی میں، امریکی حکومت کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر عائد کیے گئے اضافی ٹیرف کے نتیجے میں بھارتی کرنسی میں ریکارڈ گراوٹ دیکھنے میں آئی۔ امریکی ٹیرف کے نفاذ کے بعد بھارتی روپیہ پہلی مرتبہ 88 روپے فی ڈالر کی سطح سے نیچے گر گیا۔ ماہرین کے مطابق، امریکی حکومت کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر اضافی 25 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد معاشی دباؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد بھارت کو اب اپنی برآمدات پر مجموعی طور پر 50 فیصد محصولات کا سامنا ہے۔
آج بھارتی روپیہ 0.65 فیصد کی کمی کے ساتھ 88.19 پر بند ہوا، جو گزشتہ تین ماہ میں سب سے بڑی یومیہ گراوٹ ہے۔ کاروبار کے دوران یہ کرنسی 88.30 کی ریکارڈ کم ترین سطح تک گئی، جس پر مرکزی بینک کی ممکنہ مداخلت کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی ٹیرف بھارت کی برآمدات اور مالیاتی بہاؤ کو متاثر کریں گے، جس سے تجارتی خسارہ اور ادائیگیوں کا توازن مزید بگڑ سکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، غیر ملکی سرمایہ کار اس سال اب تک بھارتی حصص اور بانڈز سے 9.7 ارب ڈالرز نکال چکے ہیں، جبکہ نئے ٹیرف کے اعلان کے بعد صرف دو روز میں ایک ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری واپس لی گئی ہے۔ یہ صورتحال بھارت کی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آئی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بھارت امریکہ کو اپنا سب سے بڑا برآمد کنندہ شمار کرتا ہے۔