گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران عالمی منظر نامے پر کئی اہم واقعات رونما ہوئے ہیں جو بین الاقوامی تعلقات، انسانی حقوق اور اقتصادی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
غزہ میں انسانی بحران اور صحافیوں کی ہلاکتیں
غزہ میں جاری تنازعہ عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، خان یونس میں النصر ہسپتال پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں متعدد صحافی اور طبی عملہ ہلاک ہوا ہے، جس پر اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (OIC)، ایران اور اسپین سمیت کئی ممالک نے شدید مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے اس واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔ اس حملے کو جنگی جرم قرار دیا جا رہا ہے اور غزہ میں صحافیوں کی ہلاکتوں پر دنیا بھر میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اسرائیل میں بھی ہزاروں افراد غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مظاہرے کر رہے ہیں، اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ وزیر اعظم نیتن یاہو جنگ کو ختم کریں۔
امریکہ-بھارت تجارتی کشیدگی
اقتصادی محاذ پر، امریکہ نے بھارتی مصنوعات پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کر دیا ہے، جس کے بعد بھارت پر مجموعی ٹیرف 50 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی نے اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ہے۔
ایران کے جوہری اور سفارتی تعلقات
ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے اعلان کیا ہے کہ ایجنسی کی ٹیم پہلی بار ایران واپس آ گئی ہے۔ تاہم، چین نے امریکہ اور روس کے ساتھ جوہری تخفیفِ اسلحہ مذاکرات میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ دوسری جانب، آسٹریلیا نے ایرانی سفیر کو ملک بدر کر دیا ہے، آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانی نے الزام لگایا ہے کہ ایران آسٹریلیا میں یہودی مخالف حملوں میں ملوث ہے۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔
عالمی پانی کا بحران اور بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ
عالمی ادارہ صحت (WHO) اور یونیسف کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، دنیا میں ہر چار میں سے ایک شخص کو اب بھی پینے کے محفوظ پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ یہ رپورٹ ورلڈ واٹر ویک کے موقع پر جاری کی گئی ہے اور پسماندہ اور کمزور آبادیوں میں صاف پانی کی عدم دستیابی کو اجاگر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، جبری طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد 8 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے، جس میں بڑی تعداد ان افراد کی ہے جو اپنے ہی ممالک کے اندر بے گھر ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے مہاجرین کے ہائی کمشنر فلپو گرینڈی نے بتایا ہے کہ پچھلے 10 سالوں میں اندرونی طور پر بے گھر ہونے والوں کی تعداد دگنی ہو گئی ہے، اور 42 فیصد بچے شامل ہیں۔
جموں و کشمیر میں ریکارڈ توڑ بارشیں
مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ 115 سال کا بارش کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے، جس کے نتیجے میں 40 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ شدید بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ سے انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے اور کئی سڑکیں بند ہو گئی ہیں۔ ریسکیو اور امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں مصروف عمل ہیں، جبکہ مزید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔