گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارتی معیشت اور کاروبار سے متعلق سب سے اہم خبر امریکہ کی جانب سے بھارتی برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف کا نفاذ ہے۔ یہ ٹیرف 27 اگست 2025 سے نافذ العمل ہو گئے ہیں، جس سے نئی دہلی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
امریکی ٹیرف اور اس کا اثر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بھارتی برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف نافذ کیا ہے، جس میں روسی تیل کی خریداری کے جواب میں اضافی 25 فیصد ٹیرف بھی شامل ہے۔ اس سے پہلے 31 جولائی کو 25 فیصد ٹیرف منظور کیا گیا تھا۔ اس اقدام سے بھارت کی 60.2 بلین ڈالر کی برآمدات متاثر ہوں گی، خاص طور پر ٹیکسٹائل، جواہرات اور فرنیچر جیسے شعبوں کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ ماہرین اقتصادیات اور مختلف اداروں نے اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ کیئر ایج ریٹنگز (CareEdge Ratings) نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر یہ بلند ٹیرف برقرار رہے تو بھارت کی جی ڈی پی کی شرح نمو سالانہ 0.8-1 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔ ایچ ڈی ایف سی بینک (HDFC Bank) نے بھی اپنی مالی سال 26 کے لیے 6.3 فیصد کی شرح نمو کے تخمینے میں 40-50 بیسس پوائنٹس کے خطرے کا اظہار کیا ہے۔
اس ٹیرف کے نفاذ کے بعد ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ میں بھی گراوٹ دیکھی گئی۔ 26 اگست کو سنسیکس (Sensex) اور نفٹی (Nifty) میں بالترتیب 1.04 فیصد اور 1.02 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جو تین ماہ میں سب سے بڑی گراوٹ تھی۔ بھارتی روپیہ بھی ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہوا اور مسلسل پانچویں سیشن میں گراوٹ کے ساتھ 87.69 پر بند ہوا۔
بھارت کا ردعمل اور حکومتی اقدامات
بھارتی حکومت نے اس اقدام کو "اقتصادی دھونس" قرار دیا ہے اور جوابی کارروائی کا عزم کیا ہے۔ وزیر مملکت برائے امور خارجہ کیرتی وردھن سنگھ نے کہا ہے کہ بھارتی معیشت اور صنعتیں بہت مضبوط ہیں اور حکومت ملک کو نقصان نہیں پہنچنے دے گی۔ حکومت متاثرہ شعبوں کے لیے متبادل بازاروں کی تلاش کر رہی ہے اور ٹیکسٹائل اور جیولری کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے 40 ممالک میں آؤٹ ریچ پروگرام شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
حکومت نے پی ایم سوانیدھی (PM SVANidhi) اسکیم کو 2030 تک توسیع دینے کی منظوری دی ہے، جس سے اسٹریٹ وینڈرز کو زیادہ قرض اور کریڈٹ کارڈز فراہم کیے جائیں گے۔ اس اقدام سے 1.15 کروڑ اسٹریٹ وینڈرز کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے، جس میں 50 لاکھ نئے مستفیدین شامل ہیں۔ صنعتوں میں روزگار کے اعداد و شمار بھی حوصلہ افزا رہے ہیں؛ مالی سال 24 میں صنعتوں میں روزگار 5.92 فیصد بڑھ کر 1.84 کروڑ ہو گیا ہے۔
ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے بھی ٹیرف سے متاثرہ شعبوں کی مدد کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کی ہے۔ فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشنز (FIEO) نے پرنسپل اور سود دونوں کی ادائیگیوں پر ایک سال کی مہلت کی وکالت کی ہے تاکہ برآمد کنندگان کو مارکیٹوں میں تنوع پیدا کرنے اور نقد بہاؤ کو منظم کرنے میں مدد مل سکے۔
مالیاتی وزیر نے کہا ہے کہ یہ چیلنجز بھارت کو مزید مضبوط اور چست بنائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت کی معیشت پہلی سہ ماہی مالی سال 26 میں حاصل کی گئی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے جولائی 2025 میں بھی لچک دکھا رہی ہے۔
بھارت کی جی ڈی پی مالی سال 25 میں 6.5 فیصد بڑھی ہے اور اسے دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرتی ہوئی بڑی معیشت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا (SBI) کے تجزیے کے مطابق، اس مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بھارت کی جی ڈی پی 6.8% سے 7% کے درمیان رہنے کا امکان ہے، جو RBI کے 6.5% کے تخمینے سے زیادہ ہے۔