غزہ کی صورتحال اور امریکی کوششیں:
غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت اور بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج وائٹ ہاؤس میں غزہ کی جنگ کے بعد کے منصوبے پر ایک اہم اجلاس کی صدارت کریں گے۔ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ واشنگٹن کو امید ہے کہ رواں سال کے آخر تک غزہ میں جنگ کسی نہ کسی طرح ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایک جامع منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے جو صدر ٹرمپ کے انسانی ہمدردی کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔
دوسری جانب، پاکستان نے غزہ کے علاقے خان یونس میں واقع النصر ہسپتال پر اسرائیلی فضائی حملوں کی شدید مذمت کی ہے، جس میں دفتر خارجہ کے مطابق 21 افراد شہید ہوئے، جن میں 5 صحافی اور ایک ریسکیو ورکر شامل تھے۔ غزہ کے محکمہ صحت نے بھی تصدیق کی ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 70 فلسطینی شہید ہوئے، جبکہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک مجموعی طور پر 62,192 فلسطینی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
ایران کا جوہری پروگرام:
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے اعلان کیا ہے کہ ایجنسی کی ٹیم پہلی بار ایران واپس پہنچ گئی ہے۔ یہ پیش رفت جون میں ایران کی جوہری تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ روسی صدر پیوٹن کا کہنا ہے کہ ایران کو یورینیم افزودگی کا بنیادی حق حاصل ہے۔
امریکہ کے بھارتی مصنوعات پر اضافی ٹیرف:
امریکہ نے آج سے بھارتی مصنوعات پر 25 فیصد اضافی ٹیرف کا اطلاق کر دیا ہے، جس کے بعد بھارت پر مجموعی ٹیرف 50 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی نے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ اقدام عالمی تجارتی تعلقات میں نئی کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں سیلابی صورتحال:
مقبوضہ کشمیر میں شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مواصلاتی نظام شدید متاثر ہوا تھا۔ تاہم، بدھ کی دوپہر تک انٹرنیٹ اور کالنگ خدمات بحال کر دی گئی ہیں، جس سے لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے۔ محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے لوگوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
چین اور بھارت کے تعلقات:
چین اور بھارت کے درمیان تعلقات میں ایک نیا موڑ آیا ہے، کیونکہ چینی وزیر خارجہ نے حالیہ دنوں میں جنوبی ایشیا کا دورہ کیا، جس میں بھارت، پاکستان اور افغانستان شامل تھے۔ اس دورے نے علاقائی جغرافیائی سیاست اور بین الاقوامی سیاست میں چین کے اہم کردار کو مزید تقویت دی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے چین کا دورہ کرنے کی دعوت قبول کر لی ہے۔