گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارت میں کئی اہم پیشرفتیں ہوئی ہیں، جن میں امریکہ کی جانب سے نئے تجارتی محصولات کا نفاذ، بھارت کی جانب سے کپاس کی درآمدی ڈیوٹی کا خاتمہ، اور ملک کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاری شامل ہے۔
بھارتی مصنوعات پر امریکی محصولات
27 اگست 2025 سے مؤثر، امریکہ نے بھارت سے درآمد کی جانے والی مصنوعات پر اضافی 25 فیصد ٹیرف نافذ کر دیا ہے۔ اس سے زیادہ تر متاثرہ بھارتی سامان پر مجموعی ٹیرف کا بوجھ 50 فیصد ہو گیا ہے۔ اس اقدام کی بنیادی وجہ بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری بتائی جا رہی ہے۔
اس فیصلے کے نتیجے میں مالی سال 2025-26 میں امریکہ کو بھارت کی تجارتی برآمدات میں 40-45 فیصد تک کمی کا امکان ہے۔ ٹیکسٹائل، جواہرات اور زیورات، جھینگا، قالین اور فرنیچر جیسے محنت کش شعبے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ تاہم، فارماسیوٹیکلز، الیکٹرانکس اور پیٹرولیم مصنوعات کو ان محصولات سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
اس صورتحال کے جواب میں، وزیر اعظم نریندر مودی نے 'آتمنیربھر بھارت' (خود انحصار بھارت) کے وژن پر زور دیتے ہوئے بھارت کی 'لچک' کا پیغام دیا ہے۔ مرکزی وزیر زراعت شیو راج سنگھ چوہان نے بھی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ 'میڈ اِن انڈیا' مصنوعات خریدیں۔ ان تجارتی کشیدگیوں کے درمیان، بھارت اور امریکہ کے سینئر حکام نے تجارتی، سرمایہ کاری، اہم معدنیات اور توانائی کی حفاظت کے شعبوں میں '2+2 انٹرسیشنل ڈائیلاگ' کے تحت ورچوئل بات چیت بھی کی۔
کپاس کی درآمدی ڈیوٹی کا خاتمہ
بھارت نے گھریلو پیداوار میں کمی اور بڑھتی ہوئی درآمدات سے نمٹنے کے لیے 30 ستمبر 2025 تک کپاس پر عائد 11 فیصد درآمدی ڈیوٹی کو معطل کر دیا ہے۔ حالیہ برسوں میں بھارت کی کپاس کی پیداوار میں کمی آئی ہے، جو گزشتہ 15 سالوں میں سب سے کم سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس فیصلے سے گھریلو کپاس کی قیمتوں میں کمی آنے اور ٹیکسٹائل کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔
شدید بارشیں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ
ملک کے کئی حصوں، خاص طور پر شمالی بھارت، میں شدید بارشوں نے تباہی مچائی ہے۔ جموں و کشمیر، ہماچل پردیش اور جھارکھنڈ میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آئے ہیں۔ مختلف واقعات میں کئی ہلاکتوں کی اطلاع ہے، جن میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کم از کم 11 افراد کی ہلاکت اور ویشنو دیوی کے قریب لینڈ سلائیڈنگ میں 30 افراد کی موت شامل ہے۔
ان آفات نے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں سڑکیں بند ہو گئی ہیں، مثال کے طور پر منڈی-منالی ہائی وے بند کر دی گئی ہے۔ جموں میں گزشتہ دو دنوں میں 1910 کے بعد سب سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔