GK Ocean

📢 Join us on Telegram: @current_affairs_all_exams1 for Daily Updates!
Stay updated with the latest Current Affairs in 13 Languages - Articles, MCQs and Exams

August 27, 2025 August 27, 2025 - Current affairs for all the Exams: امریکہ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف کا نفاذ اور بھارتی معیشت پر اس کے اثرات

27 اگست 2025 سے امریکہ نے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں بھارت کی برآمدی صنعتوں کو شدید بحران کا سامنا ہے۔ یہ اقدام یوکرین پر روسی حملوں کے دوران بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔ ٹیکسٹائل، جیولری، چمڑے اور جھینگا جیسی صنعتیں سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں، جہاں آرڈرز کی منسوخی اور فیکٹریوں کی بندش کے باعث ہزاروں ملازمتیں خطرے میں ہیں۔ بھارتی حکومت اور ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، تاہم کاروباری طبقہ فوری امداد کا طلبگار ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارتی معیشت اور کاروبار سے متعلق سب سے اہم خبر امریکہ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف کا نفاذ ہے۔ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے باضابطہ طور پر 25 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کا نوٹس جاری کیا ہے، جس سے بھارت پر عائد مجموعی ٹیرف 50 فیصد ہو گیا ہے، اور یہ 27 اگست 2025 کو بھارتی مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر 1 منٹ سے لاگو ہو گیا ہے۔

امریکی نوٹس میں وضاحت کی گئی ہے کہ یہ اقدام یوکرین پر روسی حملوں کے دوران بھارت کی جانب سے روسی تیل کی بالواسطہ حمایت کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔ اس سے قبل 30 جولائی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر 25 فیصد اضافی ٹیرف لگانے کا اعلان کیا تھا جسے اب بڑھا کر 50 فیصد کر دیا گیا ہے۔

معیشت پر اثرات اور متاثرہ شعبے:

یہ نئے ٹیرف خاص طور پر ٹیکسٹائل، جیولری، چمڑے، کیمیکلز اور آٹو پارٹس جیسے شعبوں کو بری طرح متاثر کریں گے۔ بھارتی برآمد کنندگان کو آرڈرز میں بڑی کمی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے تروپور (تمل ناڈو) میں گارمنٹس حب، سورت (گجرات) میں ہیرے کی صنعت، اور آندھرا پردیش کے جھینگا فارمز بدترین صورتحال سے دوچار ہیں۔ تروپور میں کئی فیکٹریوں میں مشینیں بند پڑی ہیں، اور ستمبر کے بعد کام نہ ہونے کا خدشہ ہے۔ ایک فیکٹری کے مالک نے بتایا کہ تقریباً 10 لاکھ ڈالر کا انڈر ویئر اسٹاک امریکی خریدار نہ ملنے کے باعث فیکٹری میں پڑا ہوا ہے۔ ٹی شرٹ جو پہلے 10 ڈالر میں امریکی مارکیٹ میں بکتی تھی، اب ٹیرف کے بعد 16.4 ڈالر کی پڑ رہی ہے، جس سے چین، ویتنام اور بنگلہ دیش کی مصنوعات کہیں زیادہ سستی ہو گئی ہیں۔

بھارتی حکومت اور RBI کا ردعمل:

بھارتی حکومت اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے 'سویشی' (Swadeshi) کے منتر کو فروغ دے رہی ہے، جس کے تحت وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستانیوں سے 'لوکل کے لیے ووکل' (vocal for local) بننے اور بھارتی مصنوعات خریدنے کی اپیل کی ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کے گورنر سنجے ملہوترا نے کہا ہے کہ مرکزی بینک امریکی ٹیرف کے نتائج سے معیشت کو بچانے کے لیے تیار ہے، اور روپے کی بین الاقوامی کاری کی حکمت عملی کے تحت مقامی کرنسی میں تجارت کو فروغ دینے کے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ حکومت پالیسی اصلاحات کو تیز کر رہی ہے، جس میں GST کی تنظیم نو بھی شامل ہے، تاکہ معاشی اعتماد اور ترقی کو تقویت ملے۔ حکومت برآمد کنندگان کے لیے مالی امداد کے اختیارات پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ ٹیرف کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

چھوٹے کاروباروں میں اعتماد میں کمی:

ASSOCHAM اور Dun & Bradstreet کے 'Small Business Confidence Index' کے مطابق، جولائی-ستمبر 2025 کی سہ ماہی میں چھوٹے کاروباروں کے اعتماد میں کمی آئی ہے، اور یہ انڈیکس 79.2 پر آ گیا ہے۔ یہ رجحان عالمی حرکیات، بشمول جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور بدلتی ہوئی تجارتی پالیسیوں کے مطابق اسٹریٹجک ایڈجسٹمنٹ کی مدت کی نشاندہی کرتا ہے۔

سیاسی ردعمل:

اپوزیشن جماعتوں نے ٹیرف کے نفاذ پر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کے صدر ملیکارجن کھرگے نے اسے حکومت کی "سطحی" خارجہ پالیسی کا نتیجہ قرار دیا ہے جس سے "بڑے پیمانے پر ملازمتوں کا نقصان" ہوگا۔ سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے بھی امریکی ٹیرف کو بی جے پی حکومت کی ناکامی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اتر پردیش کے برآمد کنندگان کے لیے تباہی کا باعث ہوگا۔

Back to All Articles