GK Ocean

📢 Join us on Telegram: @current_affairs_all_exams1 for Daily Updates!
Stay updated with the latest Current Affairs in 13 Languages - Articles, MCQs and Exams

September 28, 2025 بھارتی معیشت اور کاروبار: امریکہ سے تجارتی کشیدگی اور اہم اندرونی پیش رفت

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارتی معیشت اور کاروباری شعبے میں کئی اہم پیش رفت سامنے آئی ہیں جن میں امریکہ کی جانب سے روسی تیل کی خریداری پر دباؤ اور اس کے نتیجے میں تجارتی معاہدے میں رکاوٹیں شامل ہیں۔ امریکی حکومت نے H1B ویزا کی فیس میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس سے بھارتی آئی ٹی سیکٹر اور پیشہ ور افراد کو شدید نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔ اندرون ملک، اڈانی گروپ کے خلاف تنقیدی رپورٹنگ پر عدالتی پابندی نے آزادی صحافت پر سوالات کھڑے کیے ہیں، جبکہ حکومت ای-کامرس برآمدات کو فروغ دینے اور ریلائنس جیسی کمپنیاں نئی مصنوعات کے ساتھ مارکیٹ میں داخل ہو رہی ہیں۔

گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں بھارتی معیشت اور کاروباری منظرنامے پر کئی اہم خبریں سامنے آئی ہیں جو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔

امریکہ-بھارت تجارتی تعلقات اور روسی تیل پر دباؤ

امریکہ نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ روس سے تیل کی خریداری دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر بھارت معاہدہ چاہتا ہے تو اسے روس سے تیل کی تجارت بند کرنی ہوگی۔ امریکی حکام کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے روسی تیل کی وجہ سے بھارت کے خلاف محصولات (ٹیرف) میں اضافہ کیا ہے، اور مجموعی ٹیرف کی شرح پچاس فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ امریکہ کے تجارتی شعبے کے مذاکرات کاروں نے بھارت کو باور کرایا ہے کہ روس سے تیل خریدنا امریکہ کے لیے ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔ ذرائع کے مطابق، تیل کی روس سے خریداری بند کرنے کے بعد ہی بھارت کے لیے امریکی ٹیرف پالیسی میں بہتری آ سکتی ہے۔

H1B ویزا فیس میں اضافہ: بھارتی آئی ٹی سیکٹر پر گہرے اثرات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں H1B ورکر ویزے کے لیے سالانہ ایک لاکھ ڈالر فیس مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ بھارتی آئی ٹی انڈسٹری اور پیشہ ور افراد پر بجلی بن کر گرا ہے، کیونکہ اس کا سب سے زیادہ اثر بھارتی پروفیشنل کلاس پر پڑے گا جو بڑی تعداد میں امریکہ میں ملازمت کے لیے اس ویزے پر انحصار کرتی ہے۔ تقریباً 70 فیصد H1B ویزا ہولڈرز بھارتی شہری ہوتے ہیں۔ اس فیصلے سے انفو سس، ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز اور وپرو جیسی بڑی بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کے کاروباری ماڈل متاثر ہوں گے، جو ہنر مند افراد کو امریکی کمپنیوں میں بھیجنے پر مبنی ہے۔ پاکستان کے سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین ذوہیب خان کے مطابق، اس ویزا فیس میں اضافے کا سب سے زیادہ نقصان بھارت کو ہوگا، کیونکہ تقریباً 72 فیصد H1B ویزے بھارت کو جاری ہوتے تھے۔

فارماسیوٹیکل برآمدات پر امریکی ٹیرف

امریکہ نے برانڈڈ ادویات پر 100 فیصد ٹیکس لگا دیا ہے، جس سے بھارتی فارماسیوٹیکل برآمدات کو بڑا دھچکا لگنے کا امکان ہے۔ بھارت سالانہ تقریباً 30 ارب ڈالرز کی ادویات برآمد کرتا ہے، جس میں سے تقریباً 27 فیصد (آٹھ ارب ڈالرز) صرف امریکہ کو برآمد کی جاتی ہیں۔ اس نئے ٹیکس سے بھارت کی دوا ساز کمپنیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

اڈانی گروپ کے خلاف تنقیدی رپورٹنگ پر عدالتی پابندی

دہلی کی ایک عدالت نے ارب پتی صنعت کار گوتم اڈانی کے بزنس گروپ کے خلاف تنقیدی یا "غیر مصدقہ" مواد شائع کرنے سے کئی معروف صحافیوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو روک دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ اقدام اظہار رائے پر قدغن اور قبل از وقت سنسرشپ کی خطرناک مثال ہے۔ ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا اور متعدد صحافیوں نے اسے آزادی صحافت کے لیے "تشویشناک" قرار دیا ہے۔ عدالت کے اس حکم کے بعد بھارتی وزارت اطلاعات و نشریات نے تقریباً 140 یوٹیوب ویڈیوز اور 80 سے زائد انسٹاگرام پوسٹس ہٹوا دیں۔

ای-کامرس برآمدات کو بڑھانے کی کوششیں

ہندوستان کی حکومت ای-کامرس برآمدات کو بڑھانے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کے قوانین میں رعایت دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس اقدام سے امیزون جیسی کمپنیاں ہندوستانی فروخت کنندگان سے براہ راست خرید سکیں گی اور بیرون ملک فروخت کر سکیں گی، جس سے چھوٹے کاروبار کے لیے نئے برآمدی مواقع پیدا ہوں گے۔

ریلائنس کا بوتل بند پانی کی صنعت میں قدم

ریلائنس نے 'کیمپا شیور' اور 'انڈیپنڈنس' کے نام سے بوتل بند پانی کی نئی مصنوعات کا آغاز کیا ہے۔ کمپنی کا مقصد بوتل بند پانی کی صنعت میں اتھل پتھل مچانا ہے، خاص طور پر چھوٹے شہروں اور دیہی ہندوستان کی مارکیٹ میں۔

کول انڈیا کے ملازمین کے لیے بونس

درگا پوجا سے قبل، کول انڈیا نے اپنے 2.2 لاکھ سے زیادہ ملازمین کو ایک لاکھ روپے کا بونس دینے کا اعلان کیا ہے۔

Back to All Articles