بھارت کی ریاست تمل ناڈو میں تمل اداکار اور سیاستدان تھلاپتی وجے کی سیاسی ریلی ایک بڑے حادثے کا شکار ہو گئی، جہاں بھگدڑ مچنے سے کم از کم 30 سے 38 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔ یہ افسوسناک واقعہ تمل ناڈو کے ضلع کرور میں پیش آیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ حادثہ تمل گاہ ویٹری کزگام (ٹی وی کے) پارٹی کے سربراہ تھلاپتی وجے کی ریلی کے دوران ہوا، جس میں ہزاروں افراد شریک تھے۔ ابتدائی رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد 10 بتائی گئی تھی، تاہم بعد میں یہ تعداد 30 سے تجاوز کر گئی اور کچھ ذرائع نے 36 سے 38 ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، ریلی کا مقام جہاں 10 ہزار افراد کی گنجائش تھی، وہاں تقریباً 50 ہزار افراد جمع ہو گئے تھے، جس کے باعث ہجوم قابو سے باہر ہو گیا۔ شدید بدنظمی کے نتیجے میں بھگدڑ مچ گئی، اور دم گھٹنے کی وجہ سے متعدد افراد بے ہوش ہو کر گر پڑے۔
اداکار وجے نے حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر اپنی تقریر روک دی اور اسٹیج سے پانی کی بوتلیں پھینک کر ہجوم کی مدد کرنے کی کوشش کی۔ زخمیوں اور بے ہوش افراد کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ریسکیو ٹیموں کو شدید رش اور بدنظمی کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وجے نے لوگوں سے پرامن رہنے اور زخمیوں کے علاج کے لیے ایمبولینسوں کو راستہ دینے کی اپیل بھی کی۔
ریاستی وزیر صحت ایم اے سبرامنین نے حادثے کی تصدیق کی ہے اور ضلعی انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے مجسٹریل انکوائری کا حکم دے دیا ہے تاکہ اصل وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ریاستی حکومت نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ کے لیے مالی امداد کا اعلان کرنے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ وجے تھلاپتی کی جماعت کی جانب سے بھی متاثرہ خاندانوں کی مدد کا اعلان متوقع ہے۔