گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران عالمی سطح پر کئی اہم واقعات رونما ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ کی صورتحال، ایران اور روس کے درمیان جوہری تعاون، اور امریکہ کی جانب سے بھارت پر تجارتی پابندیاں سرفہرست ہیں۔
غزہ کی صورتحال اور عالمی ردعمل
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران، اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی تقریر کے موقع پر متعدد ممالک کے نمائندوں نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا، جس نے اسرائیل کی عالمی سطح پر تنہائی کو نمایاں کیا۔ آئرلینڈ کے وزیراعظم نے اسرائیل کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جبکہ یونان کے وزیراعظم نے خبردار کیا کہ غزہ میں جاری جارحیت اسرائیل کو عالمی تنہائی کا شکار کر سکتی ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق، سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کو غزہ کے انتظامی امور کی سربراہی سونپنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ حماس کے بعد غزہ کے عبوری انتظامی ادارے کی نگرانی کی جا سکے۔ اقوام متحدہ میں ایک 10 سالہ فلسطینی بچی کی وصیت سن کر مندوبین آبدیدہ ہو گئے۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ فلسطین کا ایک اٹوٹ حصہ ہے، جبکہ حماس کے سینئر رہنما غازی حماد نے کہا کہ ایک آزاد ریاست کے قیام پر ہتھیار فلسطینی فوج کے حوالے کر دیے جائیں گے۔
ایران-روس جوہری معاہدہ
ایران اور روس نے چار نئے جوہری بجلی گھروں کی تعمیر کے لیے 25 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدہ 2015 کے تاریخی جوہری معاہدے کے تحت ایران پر پابندیوں کے ممکنہ طور پر دوبارہ عائد ہونے سے چند گھنٹے قبل سامنے آیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے بھارتی ادویات پر ٹیرف
امریکہ نے یکم اکتوبر سے بھارتی ادویات کی درآمدات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ بھارت کی فارماسیوٹیکل صنعت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جس کا بڑا انحصار امریکہ کے ساتھ تجارت پر ہے۔ اس فیصلے کو بھارت کی معیشت کے لیے ایک اور دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر پاکستان کے ساتھ جنگ کے بعد۔
ماحولیاتی بحران پر پاکستان کا موقف
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ماحولیاتی بحران کو سب سے فوری عالمی چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2022 اور 2025 میں پاکستان کو شدید سیلابوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں اربوں ڈالر کا نقصان اور ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ پاکستان کا عالمی گیسوں کے اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، لیکن وہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔
پاکستان اور روس کی مشترکہ فوجی مشق
پاکستان اور روس کی افواج کے درمیان انسداد دہشت گردی کے شعبے میں مشترکہ فوجی مشق "دروزبا-VIII" جاری ہے، جو 27 ستمبر کو اختتام پذیر ہو گی۔ اس مشق کا مقصد دونوں ممالک کے عسکری تعلقات کو مضبوط کرنا ہے۔
پاکستان میں نایاب معدنیات کے ذخائر
پاکستان میں نایاب دھاتی عناصر اور اہم معدنیات کے وسیع ذخائر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ چین اور امریکہ کے درمیان ٹیکنالوجی کی دوڑ میں ان معدنیات کی طلب میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ امریکی کمپنیاں پاکستان میں ان ذخائر کی تلاش میں مدد فراہم کریں گی۔
چین میں دنیا کا سب سے اونچا پل
چین کے جنوب مغربی علاقے میں دنیا کا سب سے اونچا پل، ہوا جیانگ گرینڈ کینین برج، ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔