GK Ocean

📢 Join us on Telegram: @current_affairs_all_exams1 for Daily Updates!
Stay updated with the latest Current Affairs in 13 Languages - Articles, MCQs and Exams

September 25, 2025 بھارت: لداخ میں ریاستی حیثیت کے مطالبے پر پرتشدد مظاہرے، 4 ہلاک، درجنوں زخمی

بھارت کے زیر انتظام علاقے لداخ میں ریاستی درجہ اور آئین کے چھٹے شیڈول میں شمولیت کے مطالبے پر پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔ ان جھڑپوں میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ مظاہرین نے پولیس گاڑیوں اور حکمران جماعت بی جے پی کے مقامی دفتر کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

بھارت کے وفاق کے زیر انتظام علاقے لداخ میں ریاستی درجہ اور مقامی رہائشیوں کے لیے نوکریوں کے کوٹے کے مطالبے پر ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں کم از کم چار افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، ہمالیائی خطے لداخ میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔

رپورٹس کے مطابق، ان مظاہروں کے دوران مشتعل ہجوم نے لیہہ شہر میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دفتر اور پولیس کی متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا، جس کے بعد حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔ ایک پولیس ذریعے نے بتایا کہ 50 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے، جن میں 20 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

لداخ 2019 میں اپنی خودمختاری کھو بیٹھا تھا، جب وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے اسے مقبوضہ جموں و کشمیر سے الگ کر کے براہ راست نئی دہلی کے انتظام کے تحت وفاقی خطے میں تبدیل کر دیا تھا۔ مظاہرین چاہتے ہیں کہ لداخ کو خصوصی درجہ دیا جائے تاکہ قبائلی علاقوں کے تحفظ کے لیے منتخب مقامی ادارے تشکیل دیے جا سکیں۔ لیہہ ایپکس باڈی (LAB) کے چیئرمین تھپستان تسوانگ نے کہا کہ اس تشدد کے دوران 2-3 نوجوان اپنی جدوجہد کے لیے جان سے گئے، اور انہوں نے لداخ کے عوام کو یقین دلایا کہ ان قربانیوں کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔

مقامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے لداخ کے عوام کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے، جس پر عوام کا صبر جواب دے گیا ہے۔ کشیدگی کے بعد علاقے میں اضافی پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں، جبکہ صورت حال پر قابو پانے کے لیے مختلف مقامات پر کرفیو نما پابندیاں نافذ کر دی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ لداخ کے عوام 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی اور یونین ٹیریٹری کا درجہ ملنے کے بعد سے ریاستی حیثیت اور آئینی تحفظات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک ساتھیوں کے ہمراہ مطالبات کے حق میں 10 ستمبر سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ بھوک ہڑتال پر بیٹھے لوگوں میں سے دو کی حالت بگڑنے کے بعد انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا، جس کے بعد مظاہروں میں شدت آگئی۔

Back to All Articles