گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران عالمی سطح پر کئی اہم پیش رفت سامنے آئی ہیں، جن میں سب سے نمایاں فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا معاملہ ہے۔ فرانس نے باضابطہ طور پر فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے بعد فرانس کا یہ اقدام اسرائیل پر مزید دباؤ بڑھا دے گا۔ العربیہ اُردو کے مطابق، فرانس اور 15 دیگر ممالک اقوام متحدہ میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے بھی یہ واضح کیا ہے کہ ایک الگ اور آزاد ریاست کا قیام فلسطینی عوام کا بنیادی حق ہے۔
فلسطین-اسرائیل تنازع کے حوالے سے دیگر پیش رفت میں، غزہ میں فوری جنگ بندی اور حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ فلسطینی صدر کی جانب سے کیا گیا ہے۔ حماس نے غزہ میں جنگ بندی پر صدر ٹرمپ کو ایک خط قطر کے حوالے کیا ہے، جس میں غزہ جنگ بندی کے لیے ایک بڑی پیشکش کی گئی ہے۔ اس دوران، غزہ شہر کے صابرہ محلے میں اسرائیلی بمباری سے ایک ہی خاندان کے 25 افراد شہید ہو گئے۔ برطانیہ نے بھی فلسطینی اتھارٹی کے مشن کو لندن میں سفارت خانے کا درجہ دے دیا ہے اور عمارت پر فلسطینی پرچم لہرا دیا گیا ہے۔
علاقائی خبروں میں، سعودی عرب آج اپنا 95واں قومی دن ملی جوش و جذبے کے ساتھ منا رہا ہے۔ اس موقع پر سعودی شہروں میں پرچم لہرائے گئے اور مختلف تقریبات کا سلسلہ دن بھر جاری رہا۔
دیگر اہم بین الاقوامی خبروں میں، شمالی کوریا نے امریکہ سے مذاکرات کے لیے اپنی شرائط رکھ دی ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر دنیا بھر سے اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل افراد کو انگلینڈ لانے کے لیے کچھ ویزا فیسیں ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ارب پتی ایلون مسک کے درمیان ایریزونا میں ایک خوشگوار ملاقات ہوئی۔ افغانستان کی طالبان حکومت نے امریکی مطالبے پر بگرام ایئربیس واپس نہ کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ اڈہ حاصل کرنے کی کوشش کی تو وہ بیس برس تک لڑنے کے لیے تیار ہیں۔