GK Ocean

📢 Join us on Telegram: @current_affairs_all_exams1 for Daily Updates!
Stay updated with the latest Current Affairs in 13 Languages - Articles, MCQs and Exams

September 20, 2025 بھارت کی اقتصادی خبریں: امریکی تجارتی کشیدگی، RBI کی ہدایات اور معاشی ترقی

گزشتہ 24 گھنٹوں میں، بھارت کی معیشت سے متعلق کئی اہم خبریں سامنے آئی ہیں۔ امریکہ نے بھارت پر 50 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کر دیے ہیں، جس کی وجہ روس سے تیل کی خریداری بتائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، امریکہ نے چاہ بہار بندرگاہ کے لیے بھارت کو دی گئی چھوٹ بھی واپس لے لی ہے، جس سے خطے میں بھارت کے تجارتی منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب، ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے بینکوں کو صارفین سے وصول کی جانے والی مختلف فیسوں کو کم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے 2025 اور 2026 کے لیے بھارت کی GDP کی شرح نمو 6.4 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے، اور بھارت دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت بن گیا ہے، جس نے جاپان کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی اور معاشی چیلنجز

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارت کی معیشت اور کاروبار کے حوالے سے کئی اہم پیشرفت سامنے آئی ہیں۔ سب سے نمایاں خبر یہ ہے کہ امریکہ نے بھارت کے خلاف ایک بڑا معاشی حملہ کرتے ہوئے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کر دیے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کی جانب سے روسی تیل کی مسلسل خریداری پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ یہ صرف شروعات ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں بھارت کی برآمدات، بالخصوص امریکہ کو بھیجی جانے والی تقریباً 64 ارب ڈالر کی برآمدات، پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جو اس کی کل امریکی برآمدات کا 80 فیصد بنتی ہیں۔ سیاسی و معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ ٹیرف بھارت کی معیشت اور سفارتی تعلقات پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی مذاکرات بھی ناکام ہو گئے ہیں۔ گزشتہ روز نئی دہلی میں ہونے والے اہم مذاکرات میں دونوں فریقین کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے، خاص طور پر روس سے تیل کی خریداری کے معاملے پر امریکہ کا دباؤ برقرار ہے۔ ان حالات میں بھارت کی مجموعی برآمدات اگست میں 9 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں۔

ایک اور بڑا جھٹکا اس وقت لگا جب امریکہ نے بھارت کو ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کے لیے دی گئی رعایت واپس لے لی۔ یہ رعایت ایران فریڈم اینڈ کاؤنٹر پرولیفریشن ایکٹ (IFCA) کے تحت دی گئی تھی اور 29 ستمبر سے ختم ہو رہی ہے۔ اس فیصلے سے چاہ بہار بندرگاہ پر کام کرنے والے بھارتی آپریٹرز امریکی مالی پابندیوں اور قانونی کارروائی کے خطرے سے دوچار ہو گئے ہیں، جس سے افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی کے لیے بھارت کے طویل المدتی منصوبے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں۔

ریزرو بینک آف انڈیا کی صارفین کے لیے اہم ہدایات

دوسری جانب، ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے بینکوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ صارفین سے وصول کی جانے والی بعض فیسوں کو کم کریں۔ ان میں ڈیبٹ کارڈز کی فیس، دیر سے ادائیگی اور کم از کم بیلنس کی ضروریات شامل ہیں۔ آر بی آئی کا یہ اقدام صارفین کو راحت فراہم کرنے اور خاص طور پر غریب اور کم آمدنی والے صارفین پر غیر متناسب اثر ڈالنے والی فیسوں کے بارے میں تشویش دور کرنے کے لیے ہے۔ اس اقدام سے بینکوں کی آمدنی پر اربوں روپے کا اثر پڑ سکتا ہے، تاہم آر بی آئی نے فیس کم کرنے کے لیے کوئی خاص حد مقرر نہیں کی ہے۔

بھارت کی مستحکم معاشی ترقی اور بڑھتی ہوئی خوشحالی

مثبت خبروں میں، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے 2025 اور 2026 کے لیے بھارت کی GDP کی شرح نمو کے تخمینے پر نظر ثانی کی ہے اور اسے 6.4 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا ہے۔ آئی ایم ایف نے دنیا کی سب سے تیز رفتار ترقی کرنے والی بڑی معیشت کے طور پر بھارت کی پوزیشن کی بھی تصدیق کی ہے۔ اس کے علاوہ، بھارت نے جاپان کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت کا اعزاز حاصل کر لیا ہے، اس کی معیشت 4 ٹریلین امریکی ڈالر کو عبور کر چکی ہے۔ نیتی آیوگ کے سی ای او بی وی آر سبرامنیم نے بتایا کہ اگر بھارت کی اقتصادی ترقی اسی رفتار سے جاری رہی تو آنے والے دو سے تین برسوں میں یہ دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بن سکتا ہے۔

ملک میں کروڑ پتی خاندانوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، 2021 اور 2025 کے درمیان ایک ملین ڈالر سے زیادہ کے اثاثوں والے ہندوستانی گھرانوں کی تعداد میں 90 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ مضبوط اسٹاک مارکیٹس، انٹرپرینیورشپ اور شہری اقتصادی نمو کی عکاسی کرتا ہے۔ مہاراشٹر 170,000 کروڑ پتی خاندانوں کے ساتھ سب سے آگے ہے، جس میں صرف ممبئی میں 142,000 کروڑ پتی ہیں۔

بھارت '2047 تک وِکست بھارت' کے ہدف کے تحت اپنی "بلیو اکانومی" کو بھی ترقی دے رہا ہے۔ یہ سمندری وسائل کے پائیدار استعمال کے ذریعے 100 ارب امریکی ڈالر کی معیشت قائم کرنے کا ہدف رکھتا ہے، جو روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ساحلی کمیونٹیز کو سہارا دینے میں مدد دے گا۔

Back to All Articles