گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارت میں کئی اہم قومی اور بین الاقوامی پیش رفت سامنے آئی ہیں جو طلباء کے لیے اہم ہیں۔
چاہ بہار بندرگاہ پر امریکی پابندیوں میں چھوٹ کی واپسی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ پر کام کرنے کے حوالے سے بھارت کو دی گئی پابندیوں میں چھوٹ واپس لے لی ہے۔ یہ فیصلہ 29 ستمبر 2025 سے نافذ العمل ہوگا اور اس کا مقصد ایران پر مزید دباؤ ڈالنا ہے۔ اس فیصلے کے بعد بھارتی آپریٹرز کو چاہ بہار بندرگاہ پر سرمایہ کاری اور آپریشنز کے سلسلے میں امریکی پابندیوں اور سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ چاہ بہار بندرگاہ بھارت کے لیے افغانستان اور وسطی ایشیا تک تجارتی رسائی کا ایک اہم دروازہ سمجھی جاتی ہے، اور بھارت طویل عرصے سے اسے پاکستان کے زمینی راستوں کا متبادل بنانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ بھارتی میڈیا نے اس پیش رفت کو "تجارتی منصوبوں کے لیے خطرے کی گھنٹی" قرار دیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے بھارتی کمپنیوں کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
پاکستان کی جانب سے فضائی حدود کی بندش میں توسیع
پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود کی بندش میں مزید ایک ماہ کی توسیع کر دی ہے۔ سول ایوی ایشن نے بھارت کے لیے فضائی حدود میں بندش سے متعلق نوٹم جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کی فضائی حدود بھارتی رجسٹرڈ طیاروں کے لیے بدستور دستیاب نہیں ہوگی۔ یہ پابندی 19 ستمبر 2025 کو دوپہر ایک بجے سے نافذ العمل ہوگی اور 24 اکتوبر 2025 کو صبح 4:59 بجے تک مؤثر رہے گی۔ اس پابندی میں فوجی پروازیں بھی شامل ہیں۔
منی پور میں آسام رائفلز کی گاڑی پر حملہ
منی پور میں آسام رائفلز کی گاڑی پر حملے کے نتیجے میں دو فوجی ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ 20 ستمبر 2025 کو 12:11 AM IST پر پیش آیا۔ یہ حملہ ریاست میں اندرونی سلامتی کے چیلنجز کو نمایاں کرتا ہے۔
سپریم کورٹ کا متنازعہ فیصلہ
بھارتی سپریم کورٹ نے ایک سماعت کے دوران کہا ہے کہ نابالغ لڑکی کے پرائیویٹ پارٹس کو چھونا ریپ یا جنسی زیادتی نہیں ہے۔ یہ فیصلہ 19 ستمبر 2025 کو 8:13 PM IST پر سامنے آیا ہے اور اس کے قانونی اور سماجی حلقوں میں وسیع تر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دیگر اہم خبریں
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ جی ایس ٹی اصلاحات سے زندگی اور کاروبار میں آسانی ہوگی۔ کھیلوں کے میدان میں، ایشیا کپ کے ایک میچ میں بھارت نے عمان کو 21 رنز سے شکست دی ہے۔ پاکستان کے ڈی جی آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی فوجی افسران پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں اور اس کے مستند شواہد موجود ہیں۔ اس کے علاوہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک نئے دفاعی معاہدے نے بھارت میں تشویش پیدا کر دی ہے۔