گزشتہ 24 گھنٹوں میں بھارتی معیشت اور کاروباری شعبے میں کئی اہم خبریں سامنے آئی ہیں جو طلباء کے لیے اہم ہیں۔
چاہ بہار بندرگاہ پر امریکی پابندیوں کا خاتمہ
امریکہ نے ایرانی چاہ بہار بندرگاہ پر عائد پابندیوں سے بھارت کو حاصل استثنیٰ ختم کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے بھارت کے اسٹریٹجک منصوبوں اور بندرگاہ میں کی گئی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ بھارت نے 2016 میں ایران کے ساتھ معاہدہ کر کے چاہ بہار بندرگاہ کی ترقی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری شروع کی تھی، جس کا مقصد افغانستان اور وسطی ایشیا تک تجارتی رسائی کے لیے ایک متبادل راستہ فراہم کرنا تھا تاکہ پاکستان کے راستے پر انحصار نہ کرنا پڑے۔ پابندیوں کے خاتمے سے یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہو سکتا ہے۔
جی ایس ٹی (GST) اصلاحات کا نفاذ
بھارت میں جی ایس ٹی کونسل نے اہم اصلاحات کی منظوری دی ہے جو 22 ستمبر 2025 سے نافذ العمل ہوں گی۔ ان اصلاحات کا مقصد ٹیکس نظام کو آسان بنانا اور عام آدمی کو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے راحت دلانا ہے۔ موجودہ چار سلیبز (5 فیصد، 12 فیصد، 18 فیصد اور 28 فیصد) کو بدل کر دو سلیبز 5 فیصد اور 18 فیصد پر لایا گیا ہے۔ کئی اہم ادویات کے ساتھ ساتھ دودھ، پنیر، بریڈ جیسی روزمرہ کی ضروری اشیاء اور تعلیمی اشیاء جیسے نقشے، چارٹس، گلوبز، اریزرز اور نوٹ بکس کو جی ایس ٹی سے مکمل طور پر مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ صحت اور انشورنس سیکٹر کو بھی جی ایس ٹی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، اور کینسر و دیگر نایاب بیماریوں کی 33 لائف سیونگ ادویات پر سے جی ایس ٹی مکمل طور پر ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارت-امریکہ تجارتی مذاکرات میں ناکامی
بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارت کے حوالے سے اہم مذاکرات نئی دہلی میں ناکام ہو گئے ہیں۔ دونوں فریقین روس سے تیل کی خریداری اور زرعی مصنوعات پر عائد بھارتی ٹیکسز جیسے مسائل پر کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ امریکہ بھارت پر زرعی مصنوعات، دودھ اور گندم پر عائد بلند ٹیکسز کم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے روس سے تیل خریدنے پر بھارت پر 50 فیصد ٹیرف بھی لگا رکھا ہے۔
بھارتی معیشت کی ترقی کی پیش گوئی
امریکہ کی قرض اور درجہ بندی سے متعلق ایجنسی S&P Global کے مطابق، عالمی سطح پر اتار چڑھاؤ کے باوجود، اِس مالی سال بھارت کی جی ڈی پی کی شرح ترقی 6.5 فیصد برقرار رہے گی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک نے اقتصادی اصلاحات، بنیادی ڈھانچے کے فروغ اور پالیسی اصلاحات کے ذریعے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں اپنی ترقی میں اضافہ کیا ہے۔ توقع ہے کہ عالمی تجارت میں بھارت کی زیادہ شمولیت سے اقتصادی ترقی کے منافع میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
یورپی یونین کی بھارت-روس تعلقات پر تشویش
یورپی یونین نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ روس کے ساتھ بھارت کے اتحاد سے یورپی یونین کے ساتھ اس کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ تشویش اس وقت سامنے آئی جب روسی صدر پیوٹن اور بھارتی وزیر اعظم مودی نے اپنی دوستی اور گرمجوش تعلقات کو سراہتے ہوئے فون پر بات چیت کی، حالانکہ واشنگٹن کی جانب سے بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات پر دباؤ موجود ہے۔