گزشتہ 24 گھنٹوں کے عالمی حالات حاضرہ میں کئی اہم واقعات نے دنیا کی توجہ حاصل کی۔ غزہ میں جاری تنازعہ، بین الاقوامی تعلقات میں تبدیلیاں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات نمایاں رہے۔
غزہ تنازعہ اور امریکی ویٹو
غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے، تاہم امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرارداد کو چھٹی مرتبہ ویٹو کر دیا ہے۔ یہ قرارداد ڈنمارک کی سفیر کرسٹینا مارکوس لاسی نے پیش کی تھی۔ پاکستان نے اقوام متحدہ میں اس فیصلے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے اسرائیلی جارحیت کو بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
امریکہ کا بھارت کو ایرانی بندرگاہ پر استثنیٰ ختم کرنا
امریکہ نے بھارت کو ایران کی چاہ بہار بندرگاہ پر کام کرنے پر عائد پابندیوں سے دیا گیا استثنیٰ واپس لے لیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، یہ فیصلہ 29 ستمبر سے نافذ العمل ہوگا۔ اس کے علاوہ، امریکہ نے ممنوعہ ادویات کی اسمگلنگ میں ملوث بھارتی شہریوں کے ویزے بھی منسوخ کر دیے ہیں۔ یہ اقدام امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں ایک نئی کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک اہم دفاعی معاہدہ طے پایا ہے، جس پر وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دستخط کیے۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور مشترکہ دفاع و تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔ اس معاہدے کو اسلامی دنیا کے مشترکہ دفاع کی حکمت عملی کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب کے دوران انہیں غیر معمولی استقبال بھی ملا، جسے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی موجودگی سے بھی منسوب کیا جا رہا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی اور WMO رپورٹ
عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 2024 گزشتہ 175 سالہ تاریخ کا گرم ترین برس تھا۔ رپورٹ کے مطابق، سطح زمین کے سالانہ درجہ حرارت میں قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں 1.55 ڈگری سیلسیئس اضافہ دیکھا گیا۔ WMO نے خبردار کیا ہے کہ عالمی حدت میں اضافہ سیلابوں اور طوفانوں کا سبب بن رہا ہے، جس سے دنیا بھر میں پانی کے ذرائع پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور حیات بخش وسائل کو خطرات لاحق ہیں۔
امریکی شہریت کے حصول کے لیے سخت ٹیسٹ
امریکی شہریت کا حصول مزید مشکل ہو گیا ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے شہریت کے خواہش مند افراد کے لیے سوک ٹیسٹ کو دوبارہ سخت کر دیا ہے۔ یہ ٹیسٹ صدر ٹرمپ کے پہلے دور حکومت میں متعارف کروایا گیا تھا جسے بعد میں صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے بوجھل قرار دے کر واپس لے لیا تھا۔ اب ٹرمپ انتظامیہ نے اسی ٹیسٹ کو دوبارہ بحال کر دیا ہے، جس سے شہری بننے کا عمل خاصا مشکل ہو گیا ہے۔
قطر کا اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت سے رجوع
قطر نے اسرائیل کے خلاف عالمی فوجداری عدالت (ICC) سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ قطر کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد الخلیفی نے دی ہیگ میں عالمی فوجداری عدالت کے سربراہ سے ملاقات کی ہے۔ یہ اقدام دوحہ، قطر پر مبینہ اسرائیلی میزائل حملے کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس میں حماس کے اعلیٰ عہدیداروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔