گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہندوستانی معیشت اور کاروباری شعبے میں کئی اہم پیش رفت سامنے آئی ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی مذاکرات کی بحالی اور وزیر تجارت پیوش گوئل کی جانب سے ہندوستان کے مستقبل کے اقتصادی اہداف کا اعلان ہے۔
ہندوستان-امریکہ تجارتی مذاکرات:
نئی دہلی میں 16 ستمبر 2025 کو ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے، جو ٹیرف کے تنازعہ کے بعد دونوں ممالک کے وفود کا پہلا آمنا سامنا تھا۔ امریکی چیف تجارتی مذاکرات کار برینڈن لنچ اور ہندوستانی وزارت تجارت کے ایڈیشنل سکریٹری راجیش اگروال نے ان مذاکرات میں اپنے اپنے وفود کی قیادت کی۔ تقریباً سات گھنٹے تک جاری رہنے والی ان بات چیت کو ہندوستانی وزارت تجارت نے "مثبت اور بصیرت انگیز" قرار دیا، جس کا مقصد دو طرفہ تجارتی معاہدے (BTA) کو جلد حتمی شکل دینے کی کوششوں کو تیز کرنا ہے۔ تاہم، ایک رپورٹ کے مطابق، روس سے تیل کی خریداری اور زرعی مصنوعات، دودھ اور گندم پر عائد ٹیکسوں میں کمی کے امریکی دباؤ جیسے مسائل پر کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا۔ امریکہ کی جانب سے گزشتہ ماہ ہندوستانی برآمدات پر اضافی 25 فیصد ٹیکس عائد کرنے کے بعد، مجموعی ٹیکس 50 فیصد تک پہنچ گیا، جس کے نتیجے میں اگست میں امریکہ کو ہندوستان کی برآمدات میں کمی دیکھی گئی۔
بھارت کا 30 ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف:
کامرس اور صنعت کے مرکزی وزیر پیوش گوئل نے اعلان کیا ہے کہ ہندوستان کا ہدف 2047 تک 30 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننا ہے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے بہت چھوٹی، چھوٹی اور اوسط درجے کی صنعتوں (MSMEs) کو دی جانے والی حمایت اور GST اصلاحات کے ذریعے ٹیکس نظام کو آسان بنانے کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔
بین الاقوامی شناخت:
ہندوستان بین الاقوامی تنظیم برائے قانونی میٹرولوجی (OIML) کے پیٹرن کی منظوری کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے والا دنیا کا 13 واں ملک بن گیا ہے۔ یہ پیش رفت 16 ستمبر 2025 کو سامنے آئی۔
ماریشس کے وزیر اعظم کا دورہ:
ماریشس کے وزیر اعظم نوین چندر رام غلام نے 16 ستمبر 2025 کو ہندوستان کا اپنا آٹھ روزہ سرکاری دورہ مکمل کیا۔ اس دورے کے دوران، انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی، جہاں دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور ماریشس کے درمیان شراکت داری کا جامع جائزہ لیا اور باہمی مفاد کے شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے نئے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔