GK Ocean

📢 Join us on Telegram: @current_affairs_all_exams1 for Daily Updates!
Stay updated with the latest Current Affairs in 13 Languages - Articles, MCQs and Exams

September 17, 2025 بھارت کی تازہ ترین خبریں: تجارتی معاہدے، عدالتی فیصلے اور قدرتی آفات

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارت میں کئی اہم واقعات پیش آئے ہیں۔ بھارت اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ تجارتی معاہدے (BTA) پر سات گھنٹے طویل بات چیت ہوئی جس میں مثبت پیش رفت ریکارڈ کی گئی۔ سپریم کورٹ نے وقف ترمیمی قانون کی ایک اہم شق پر روک لگا دی ہے۔ سکم میں شدید بارشوں کے بعد لینڈ سلائیڈنگ سے چار افراد ہلاک اور تین لاپتہ ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، سری نگر-جموں شاہراہ کی بندش کے باعث کشمیر کے سیب کی برآمدات کو بھاری نقصان کا سامنا ہے۔

بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے پر اہم بات چیت

بھارت اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ تجارتی معاہدے (BTA) کو جلد حتمی شکل دینے کے لیے نئی دہلی میں سات گھنٹے طویل میٹنگ ہوئی۔ وزارت تجارت کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، اس ملاقات میں تجارتی معاہدے کے مختلف پہلوؤں پر مثبت اور بصیرت انگیز بات چیت کی گئی اور معاہدے کو جلد مکمل کرنے کے لیے کوششیں تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ امریکہ کی تجارتی نمائندہ اور جنوبی و وسطی ایشیا کے لیے چیف مذاکرات کار برینڈن لنچ نے مذاکرات میں حصہ لیا، جبکہ ہندوستانی فریق کی قیادت وزارت تجارت کے ایڈیشنل سکریٹری راجیش اگروال نے کی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ نے بھارت کی روس سے خام تیل کی خریداری پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے، اور یہ اس تنازعہ کے بعد کسی سینئر امریکی تجارتی عہدیدار کا ہندوستان کا پہلا دورہ تھا۔

وقف ترمیمی قانون پر سپریم کورٹ کا فیصلہ

بھارتی سپریم کورٹ نے وقف ترمیمی قانون کی ایک شق پر روک لگا دی ہے۔ یہ شق وقف بنانے کے لیے کسی شخص کو پانچ سال تک اسلام کا پیروکار ہونا ضروری قرار دیتی تھی۔ اس فیصلے سے وقف سے متعلق قانونی ڈھانچے میں اہم تبدیلی آئی ہے۔

سکم میں لینڈ سلائیڈنگ اور جانی نقصان

شمال مشرقی ریاست سکم میں شدید بارشوں کے بعد لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آئے ہیں۔ ان حادثات کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور تین دیگر لاپتہ ہو گئے ہیں۔ علاقے میں کئی ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں، جس سے صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔

کشمیر میں سیب کی برآمدات کو بھاری نقصان

سری نگر-جموں شاہراہ تقریباً دو ہفتوں سے بند ہے، جس کی وجہ سے سیب سے لدی ہزاروں گاڑیاں منڈیوں تک پہنچنے سے محروم ہیں۔ مقامی زرعی ماہرین اور تاجروں کا کہنا ہے کہ بروقت نقل و حمل نہ ہونے کی صورت میں سیب سڑ جائیں گے اور 800 سے 1200 کروڑ روپے تک کا معاشی نقصان متوقع ہے۔ ماہرین کا مؤقف ہے کہ یہ منظم رکاوٹیں محض ٹریفک مسائل نہیں بلکہ مقصودانہ معاشی حربے کے مترادف ہیں جن کا نشانہ کشمیری زراعت اور عام خاندان ہیں۔ مقامی تجارتی حلقے کہتے ہیں کہ کشمیری ایک سال کے اخراجات ان سیبوں کی فروخت سے نکالتے ہیں، اور راستوں کی بندش سے برآمدی کنٹریکٹس خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

Back to All Articles