گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران عالمی سطح پر کئی اہم پیشرفتیں سامنے آئیں، جن میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، بڑی طاقتوں کے درمیان تعلقات اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس نمایاں رہیں۔
دوحہ میں ہنگامی عرب اسلامی سربراہ اجلاس اور اسرائیلی جارحیت کی مذمت
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک ہنگامی عرب اسلامی سربراہ اجلاس منعقد ہوا جس میں 50 سے زائد مسلم ممالک کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ اس اجلاس کا مقصد قطر پر اسرائیل کے حالیہ حملے کے بعد یکجہتی کا اظہار کرنا اور غزہ میں جاری انسانی بحران پر غور کرنا تھا۔
اجلاس کے شرکاء نے اسرائیل کی جارحیت اور اس کے جنگی جرائم کی شدید مذمت کی اور اسے عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ اسرائیل عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے اور مصر فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے کسی بھی منصوبے کو قبول نہیں کرے گا۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے بھی اسرائیل کو کھلی جارحیت کی رعایت نہ دینے پر زور دیا اور تجویز دی کہ OIC کے فریم ورک کے تحت اسرائیل کو عالمی عدالت انصاف میں لانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنائی جائے۔
اجلاس کے متفقہ اعلامیے میں تمام ممالک سے اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی معطل کرنے کی اپیل کی گئی اور عرب و مسلم رہنماؤں سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی و معاشی تعلقات پر نظرثانی کا مطالبہ کیا گیا۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف قطر کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا اور انسانیت کے خلاف جنگی جرائم پر اسرائیل کو کٹہرے میں لانے اور اس کے توسیع پسندانہ عزائم کو روکنے کے لیے عرب اسلامی ٹاسک فورس قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے غزہ میں فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی محفوظ فراہمی اور اقوام متحدہ میں اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے کی تجویز کی حمایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر کو امریکہ کا قریبی اتحادی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل قطر میں دوبارہ حملہ نہیں کرے گا۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ قطر میں ہونے والے حالیہ واقعات پر ناخوش ہیں اور امریکہ اس اجلاس میں شریک نہیں ہو رہا۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ قطر اور دیگر ممالک نے اسرائیل کو تنہا کر دیا ہے، لیکن امریکہ اور بہت سے ممالک ان کے ساتھ ہیں۔
غزہ میں انسانی بحران اور اقوام متحدہ کی مذمت
اقوام متحدہ نے غزہ میں اسرائیل کی ہولناک عسکری کارروائیوں کی مذمت کی ہے، جس کے نتیجے میں درجنوں شہری ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترجمان نے بتایا کہ غزہ کے شہری شدید تکالیف اور بھوک کا سامنا کر رہے ہیں، اور انہیں جنگ سے تحفظ ملنا چاہیے۔ نقل مکانی کرنے والے افراد شاہراہ راشد کے ذریعے جنوبی غزہ کی طرف جا رہے ہیں، اور گزشتہ چند روز میں 70 ہزار افراد نے اس راستے سے جنوب کا رخ کیا۔ عالمی پروگرام برائے خوراک (WFP) نے خبردار کیا ہے کہ غزہ شہر سے جبری نقل مکانی کے نتیجے میں بھوک میں اضافہ ہوگا اور بچوں پر اس کے شدید اثرات مرتب ہوں گے۔ مقامی وزارت صحت کے مطابق، غذائی قلت اور شدید بھوک سے ہلاکتوں کی تعداد 425 تک پہنچ گئی ہے، جن میں ایک تہائی بچے شامل ہیں۔ ڈاکٹروں نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی افواج غزہ میں بچوں کو سر اور سینے پر گولی مارنے کے طریقہ کار کا استعمال کر رہی ہیں۔
امریکہ اور چین کے درمیان ٹک ٹاک مذاکرات
امریکہ اور چین نے ٹک ٹاک کی فروخت کے معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان 19 ستمبر کو بات چیت ہوگی تاکہ معاملات کو حتمی شکل دی جا سکے۔
ایران کے جوہری پروگرام پر IAEA کی رپورٹ
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل رافائل میریانو گروسی نے کہا ہے کہ ایران میں ادارے کے معائنہ کاروں کی واپسی اور تنصیبات پر حفاظتی انتظامات کی بحالی سے ملک کے جوہری مسئلے کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام پر شدید دباؤ کا بھی ذکر کیا اور اس کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔