گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارتی معیشت اور کاروباری شعبے سے متعلق کئی اہم پیشرفت سامنے آئی ہیں۔ حکومت کی جانب سے معاشی ترقی کے بلند عزائم کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ کچھ چیلنجز بھی نمایاں ہوئے ہیں۔
30 ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف اور حکومتی اقدامات
بھارتی وزیر تجارت اور صنعت پیوش گوئل نے اعلان کیا ہے کہ بھارت 2047 تک 30 ٹریلین ڈالر کی معیشت بن جائے گا۔ انہوں نے ایک نجی میڈیا تنظیم کے سالانہ اجلاس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں افراط زر پر قابو پایا گیا ہے اور لاگت کو کنٹرول کرنا حکومت کی ترجیح رہی ہے۔ مسٹر گوئل نے ریزرو بینک آف انڈیا کے مالیاتی اور مانیٹری پالیسی کی مسلسل نگرانی کے کردار اور مائیکرو، سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (MSMEs) کی حمایت کے لیے حکومتی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے 2017 میں جی ایس ٹی کے نفاذ کو آزادی کے بعد کی سب سے بڑی تبدیلی قرار دیا جس نے نظام کو بدعنوانی، دلالوں اور کاغذی کارروائی سے پاک کرنے میں مدد کی۔
جی ایس ٹی اصلاحات اور کھپت میں اضافہ
مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے اتوار (14 ستمبر 2025) کو بتایا کہ جی ایس ٹی نظام سے عوام اور ریاستی حکومتوں دونوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تازہ ترین جی ایس ٹی اصلاحات میں، 12 فیصد جی ایس ٹی بریکٹ میں شامل 99 فیصد اشیاء اب 5 فیصد جی ایس ٹی بریکٹ میں آ گئی ہیں۔ ان اصلاحات کا مقصد کھپت کی نمو کو دوبارہ زندہ کرنا اور کارپوریٹ منافع کو بڑھانا ہے۔
توانائی کی خود انحصاری پر وزیر اعظم کا زور
وزیر اعظم نریندر مودی نے خام تیل اور گیس کی درآمدات کو کم کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے آسام میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تیل کی تلاش اور گرین انرجی کی پیداوار پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے نملی گڑھ میں نئے بائیو ایتھنول ریفائنری کا افتتاح کیا، جس سے کسانوں اور قبائلیوں کو فائدہ پہنچے گا۔
آئی ایف سی کی جانب سے ہندوستان میں سرمایہ کاری میں اضافہ
ورلڈ بینک گروپ کے نجی شعبے کی شاخ، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) نے 2030 تک ہندوستان میں اپنی سالانہ سرمایہ کاری کو 10 بلین ڈالر تک دوگنا کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ آئی ایف سی کے منیجنگ ڈائریکٹر مکھتار ڈیوپ نے کہا کہ ہندوستان کی اس رفتار سے بڑھتی ہوئی معیشت کے لیے ہماری خواہش اور عزم کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ آئی ایف سی کی توجہ شہری کاری، گرین انرجی اور MSMEs پر مرکوز رہے گی۔
جی سی سی سیکٹر کو فروغ دینے کے لیے سی آئی آئی کی سفارشات
کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (CII) نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ گلوبل کیپیبلٹی سینٹرز (GCCs) کو ٹیکس ہالیڈے، رعایتی کارپوریٹ ٹیکس کی شرحیں، جی ایس ٹی کی وضاحت اور مستقل اسٹیبلشمنٹ کے قواعد میں ہم آہنگی فراہم کرے۔ سی آئی آئی کا اندازہ ہے کہ 2030 تک یہ شعبہ 600 بلین ڈالر کے جی ڈی پی اثر اور 25 ملین ملازمتیں پیدا کر سکتا ہے۔
امریکی سافٹ ویئر پر انحصار کے اقتصادی خطرات
ایک تھنک ٹینک، گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو (GTRI) نے خبردار کیا ہے کہ امریکی سافٹ ویئر، کلاؤڈ سروسز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہندوستان کا انحصار جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے وقت ایک بڑا اقتصادی اور سلامتی کا خطرہ بن سکتا ہے۔ جی ٹی آر آئی نے ایک "ڈیجیٹل سوراج مشن" شروع کرنے کی تجویز دی ہے جس میں خودمختار کلاؤڈ، مقامی آپریٹنگ سسٹم اور ہوم گراؤن سائبر سیکیورٹی شامل ہو۔
امریکی ٹیرف کا بھارتی برآمدی صنعت پر اثر
امریکی ٹیرف کی وجہ سے بھارتی برآمدی صنعت کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ خاص طور پر قالین کی صنعت بری طرح متاثر ہوئی ہے، جہاں 50 فیصد ٹیرف نے برآمدات کو تقریباً روک دیا ہے۔ ٹیکسٹائل اور ہیروں کی صنعتوں کو بھی اسی طرح کے مسائل کا سامنا ہے، جس سے لاکھوں ملازمتیں خطرے میں ہیں۔ صنعت کاروں نے صورتحال کو اپنے کیریئر کا سب سے مشکل وقت قرار دیا ہے اور حکومت سے مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔