افراط زر میں کمی اور اقتصادی استحکام کی توقعات
بینک آف بڑودہ (BoB) کی ایک رپورٹ کے مطابق، بھارت میں خوردہ افراط زر (CPI) مالی سال 2026 میں 3.1 فیصد پر مستحکم ہونے کا امکان ہے، جس کی بنیادی وجہ غذائی اشیاء کی قیمتوں میں گراوٹ اور حالیہ جی ایس ٹی کی شرحوں میں کمی ہے۔ اگست میں سی پی آئی افراط زر جولائی کے 1.61 فیصد سے بڑھ کر 2.07 فیصد ہو گیا، جو گزشتہ سال کے 3.7 فیصد سے نمایاں طور پر کم ہے۔ غذائی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے مہینے کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو بنیادی طور پر سبزیوں، دالوں اور مصالحوں کی کم لاگت کی وجہ سے ہے۔
ریسرچ اور ریٹنگ فرم کریسل (Crisil) نے بھی مالی سال 2025-26 کے لیے بھارت کے ہیڈ لائن افراط زر کی پیش گوئی کو 3.5 فیصد سے کم کر کے 3.2 فیصد کر دیا ہے۔ اس کمی سے ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کی جانب سے شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کی امید پیدا ہوئی ہے، جو عالمی اقتصادی چیلنجوں کے درمیان گھریلو طلب کو بڑھا سکتی ہے۔ تاہم، خریف کے موسم میں ضرورت سے زیادہ بارشیں غذائی پیداوار کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں، خاص طور پر پنجاب جیسے علاقوں میں۔
حکومتی اقدامات اور ترقی
حکومت نے معیشت کو سہارا دینے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ حالیہ جی ایس ٹی کی شرحوں میں کمی اور انہیں معقول بنانا قلیل مدتی اقتصادی ترقی میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، جی ایس ٹی میں کٹوتی سے جی ڈی پی کی ترقی میں 60 بیسس پوائنٹس کا اضافہ ہو سکتا ہے اور خوردہ افراط زر میں 100 بیسس پوائنٹس کی کمی آ سکتی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے مرکزی بجٹ میں 12 لاکھ روپے سالانہ تک کمانے والے افراد کو انکم ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔
بنیادی ڈھانچے پر حکومتی سرمائے کے اخراجات میں 2019-20 کے بعد سے تین گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ پروڈکشن لنکڈ انسینٹیو (PLI) اسکیم اور انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن جیسی اسکیمیں سرمایہ کاری کو راغب کر رہی ہیں، خاص طور پر موبائل مینوفیکچرنگ کے شعبے میں، جہاں ایپل اور سام سنگ جیسی کمپنیوں کی برآمدات 2024-25 میں 24.1 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بھارت دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرتی ہوئی بڑی معیشت ہے اور شمال مشرقی علاقہ ملک کا ترقی کا انجن بن رہا ہے۔
نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور عالمی چیلنجز
اقتصادی ترقی کے لیے سازگار ماحول کے باوجود، نجی شعبے کی جانب سے سرمایہ کاری اور اخراجات میں ہچکچاہٹ ایک اہم تشویش ہے۔ اس کی وجوہات میں طلب اور ملازمت کے تحفظ کے بارے میں غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی خلل شامل ہو سکتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگست 2025 میں بھارتی اشیاء پر 25 فیصد ٹیرف اور روس کے ساتھ بھارت کی توانائی تجارت سے متعلق اضافی 25 فیصد جرمانہ عائد کیا ہے۔ اس سے تجارت میں مسابقت کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں، خاص طور پر ٹیکسٹائل کے شعبے میں۔ تاہم، بھارتی معیشت بڑی حد تک اندرونی طور پر چلتی ہے، اور امریکہ کو برآمدات بھارت کی جی ڈی پی کا صرف 2 فیصد ہیں۔
بھارت کی عالمی ویلیو چینز (GVCs) میں شرکت نسبتاً کم ہے، اور امریکی ٹیرف GVCs میں مزید انضمام کی بھارت کی خواہش کو متاثر کر سکتے ہیں۔ بھارت کی حکمت عملی میں برآمدی منڈیوں کو متنوع بنانا اور نئے تجارتی معاہدے کرنا شامل ہے۔
دیگر کاروباری خبریں
رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ (REITs) کا شعبہ عالمی منڈیوں سے بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے، جس کی اوسط پیداوار 6-7.5 فیصد ہے۔ اس شعبے کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن تقریباً 18 بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور توقع ہے کہ چار سالوں میں یہ 25 بلین ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔
اسمارٹ فون کی ترسیل میں تہواروں کے سیزن میں کمزوری کی توقع ہے، جس کے بعد سالانہ پیش گوئیوں میں کمی کی گئی ہے۔ سونے کی ریکارڈ بلند قیمتیں بھی تہواروں کے دوران زیورات کی خریداری کو متاثر کر رہی ہیں۔
امریکی حکومت نے اپنی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے لیے خطرہ سمجھی جانے والی سرگرمیوں میں ملوث 32 اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں چین، بھارت، ایران، متحدہ عرب امارات اور ترکیہ کے ادارے شامل ہیں۔