GK Ocean

📢 Join us on Telegram: @current_affairs_all_exams1 for Daily Updates!
Stay updated with the latest Current Affairs in 13 Languages - Articles, MCQs and Exams

September 13, 2025 بھارتی معیشت اور کاروبار کی تازہ ترین خبریں

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارتی معیشت اور کاروباری شعبے سے کئی اہم خبریں سامنے آئی ہیں۔ اگست میں خوردہ افراط زر میں معمولی اضافہ دیکھا گیا، تاہم یہ ریزرو بینک آف انڈیا کے ہدف سے نیچے رہا۔ بھارت نے اپنی شمال مشرقی سرحد پر ایک بڑا ریلوے انفراسٹرکچر منصوبہ منظور کیا ہے جس کا مقصد رسائی اور دفاعی تیاریوں کو بہتر بنانا ہے۔ امریکہ کی جانب سے لگائے گئے ٹیرف کی وجہ سے ہاتھ سے بنے قالین کی صنعت بحران کا شکار ہے، جبکہ بھارت نے ماریشس کے لیے ایک خصوصی اقتصادی پیکج کا اعلان کیا ہے۔ بین الاقوامی تجارتی تعلقات اور برآمدی کارکردگی بھی زیر بحث رہی ہے۔

خوردہ افراط زر میں معمولی اضافہ

اگست 2025 میں بھارت کی خوردہ افراط زر (retail inflation) معمولی طور پر بڑھ کر 2.07 فیصد ہو گئی، جس نے 10 ماہ کی سست روی کے بعد اضافہ دکھایا۔ اس اضافے کے باوجود، افراط زر مسلسل چوتھے مہینے 3 فیصد سے نیچے رہا، جو جولائی میں 1.61 فیصد کی آٹھ سال کی کم ترین سطح پر تھا۔ اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اعداد و شمار ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کو اکتوبر میں اپنی پالیسی کے اعلان میں شرح سود میں ایک اور کمی کرنے سے نہیں روکیں گے۔ آر بی آئی کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس 29 ستمبر سے یکم اکتوبر تک ہونے والا ہے۔

شمال مشرقی سرحد پر بڑا ریلوے انفراسٹرکچر منصوبہ

بھارت نے اپنی شمال مشرقی سرحد کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک بڑے ریلوے انفراسٹرکچر منصوبے کی منظوری دی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد چین، بنگلہ دیش، میانمار اور بھوٹان کی سرحد سے متصل دور دراز علاقوں تک رسائی کو بہتر بنانا، لاجسٹکس کو تیز کرنا، اور پڑوسی ملک چین کے ساتھ تعلقات میں کسی بھی ممکنہ بگاڑ کی صورت میں فوجی تیاری کو یقینی بنانا ہے۔ اس منصوبے کے تحت 500 کلومیٹر (تقریباً 310 میل) طویل ریلوے لائنیں بچھائی جائیں گی، جن میں پل اور سرنگیں بھی شامل ہوں گی۔ اس منصوبے پر حکومت کے 300 ارب روپے (یعنی 3.4 ارب ڈالر) لاگت آنے کا امکان ہے اور توقع ہے کہ یہ چار سال کے اندر مکمل ہو جائے گا۔

ہاتھ سے بنے قالین کی صنعت بحران کا شکار

ہاتھ سے بنے قالین کی صنعت کو امریکہ کی طرف سے لگائے گئے ٹیرف میں زبردست اضافے کی وجہ سے سماجی و اقتصادی ہنگامی صورتحال کا سامنا ہے۔ امریکہ بھارت کی سب سے بڑی قالین کی برآمدی منڈی ہے، جس کی ترسیل کا تقریباً 60 فیصد حصہ ہے۔ 20 لاکھ سے زیادہ کاریگر، جن میں زیادہ تر دیہی خواتین ہیں، براہ راست اس شعبے پر منحصر ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری ریلیف فراہم نہیں کیا گیا تو ورثے کے دستکاری اور دیہی معاش کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔

ماریشس کے لیے خصوصی اقتصادی پیکج

وزیر اعظم نریندر مودی نے ماریشس کے لیے ایک خصوصی اقتصادی پیکج کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیکج بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور جزیرہ نما ملک میں صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے ہے۔ یہ اعلان مودی نے اتر پردیش کے شہر وارانسی میں ماریشس کے ہم منصب نوین چندر رام غلام کے ساتھ وسیع پیمانے کی بات چیت کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

بین الاقوامی تجارتی تعلقات پر بحث

امریکی جریدے 'فارن افیئرز' کی ایک حالیہ رپورٹ میں یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ امریکہ کی بھارت پر انحصار کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے اور پاکستان کو زیادہ قابل اعتماد شراکت دار قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بھارت کبھی بھی امریکہ کا بھروسہ مند اتحادی نہیں رہا اور نہ ہی وہ واشنگٹن کی توقعات پر پورا اترا۔ دوسری جانب، صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے بھارت کی معیشت کے اور زیادہ خود کفیل ہونے اور برآمدات کے شعبے میں عمدہ کارکردگی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ پچھلے 10 برسوں میں بھارت کی انجینئرنگ برآمدات 70 ارب ڈالر سے بڑھ کر 115 ارب ڈالر سے زائد ہو گئی ہیں۔

Back to All Articles