بھارت کی برآمدی معیشت کو درپیش چیلنجز
بھارت کی برآمدی معیشت کو حالیہ دنوں میں شدید بحران کا سامنا ہے۔ ایک بھارتی جریدے 'دی وائر' کی رپورٹ کے مطابق، مودی حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں اور محض کھوکھلے نعروں نے بھارت کی برآمدی صنعت کو مفلوج کر دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درآمدی پالیسیوں اور اس کے نتیجے میں لگنے والے ٹیرف نے بھارت کی ٹیکسٹائل، چمڑے، جھینگا اور زیورات کی صنعتوں کو براہ راست نقصان پہنچایا ہے، جس سے لاکھوں بھارتی مزدور اپنی نوکریاں کھونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ سابق ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر رگھورام راجن نے بھی سوال اٹھایا ہے کہ روسی تیل کی درآمدات سے حاصل ہونے والا اصل فائدہ کن طبقات کو مل رہا ہے، اور کیا اس منافع کا کچھ حصہ ان مزدوروں کو دیا جانا چاہیے جو امریکی ٹیرف کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔
امریکہ اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات اور دفاعی معاہدے
امریکہ اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔ ٹرمپ کے ایک ایلچی نے آئندہ چند ہفتوں میں بھارت کے ساتھ ٹیرف تنازع حل ہونے کی امید ظاہر کی ہے۔ اس کے علاوہ، امریکہ کا ایک دفاعی وفد 16 سے 19 ستمبر کے دوران بھارت کا دورہ کرے گا تاکہ 4 ارب ڈالرز مالیت کے P-8I میرین پٹرول طیاروں کی فروخت کے معاہدے پر بات چیت کی جا سکے۔ یہ تجارتی تنازعہ کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان پہلا باضابطہ رابطہ ہوگا۔
پاکستان کی جانب سے بھارت سے بالواسطہ درآمدات میں اضافہ
پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی اور تجارتی پابندیوں کے دعوؤں کے باوجود، اگست 2025 میں بھارت سے پاکستان کی بالواسطہ درآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، اگست 2025 میں بھارت سے پاکستان کی درآمدات کا حجم 3 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز رہا، جو گزشتہ سال اگست 2024 کے مقابلے میں 37 فیصد زیادہ ہے۔ پاکستان نے مئی 2025 میں سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ معطل کیے جانے کے بعد بھارت کے ساتھ ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی تھی، جس میں تیسرے ممالک کے ذریعے بھارتی مصنوعات کی درآمد بھی شامل تھی۔