گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارتی معیشت کے حوالے سے اہم خبروں میں امریکی تجارتی پالیسیوں کے منفی اثرات اور بھارت کی برآمدی صنعت کو درپیش چیلنجز نمایاں رہے۔ متعدد رپورٹوں کے مطابق، مودی حکومت کی معاشی پالیسیاں اور "سوادیشی" جیسے قوم پرستانہ نعرے بھارت کی برآمدی معیشت کو شدید بحران سے دوچار کر رہے ہیں۔
بھارتی جریدے 'دی وائر' کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درآمدی پالیسیوں اور اس کے نتیجے میں لگنے والے ٹیرف نے بھارت کی ٹیکسٹائل، چمڑے، جھینگا اور زیورات کی صنعتوں کو براہ راست نقصان پہنچایا ہے۔ اس صورتحال میں لاکھوں بھارتی مزدور اپنی نوکریاں کھونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
رپورٹ میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا آج کی عالمی معیشت میں "خود انحصاری" کا نعرہ کوئی حقیقی اثر رکھتا ہے، جبکہ مقامی منڈیوں میں ایسی قیمتیں موجود ہی نہیں جو برآمدی صنعتوں کو سہارا دے سکیں۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے سابق گورنر رگھورام راجن نے بھی اس صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ روسی تیل کی درآمدات سے حاصل ہونے والا اصل فائدہ کن طبقات کو مل رہا ہے اور کیا اس منافع کا کچھ حصہ ان مزدوروں کو نہیں ملنا چاہیے جو امریکی ٹیرف کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔
دریں اثنا، امریکہ اور بھارت کے درمیان تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا "بہترین دوست" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آنے والے ہفتوں میں ان سے بات چیت کے منتظر ہیں، اور انہیں یقین ہے کہ دونوں عظیم ممالک کے لیے کامیاب نتیجے پر پہنچنا مشکل نہیں ہوگا۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی صدر ٹرمپ سے بات کرنے کے منتظر ہیں، اور بھارت اور امریکہ قریبی دوست اور فطری شراکت دار ہیں۔
اس سے قبل، بھارت میں امریکی محصولات سے معاشی دباؤ کے خدشے کے پیش نظر گھریلو مصنوعات پر گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) میں کمی کی گئی تھی۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے اعلان کیا تھا کہ عام آدمی اور متوسط طبقے کے استعمال ہونے والی اشیاء پر جی ایس ٹی پوری طرح سے کم کر دی گئی ہے، جس کا مقصد معاشی دباؤ کے مقابلے میں گھریلو طلب بڑھانا ہے۔