دوحہ میں اسرائیلی حملہ اور عالمی ردعمل
9 ستمبر کو اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے ٹھکانوں پر فضائی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک ہو گئے۔ اس حملے کی عالمی برادری کی جانب سے شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ چین نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے قطر کی علاقائی خودمختاری اور قومی سلامتی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں طاقت کے ذریعے امن حاصل نہیں کیا جا سکتا اور بات چیت و مذاکرات ہی بنیادی حل ہیں۔ سعودی عرب نے بھی قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی اقدامات کی مذمت کی ہے۔ قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے اس حملے کو ریاستی دہشت گردی قرار دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ قطر اسرائیل کے خلاف قانونی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے ان خبروں کو مسترد کیا کہ امریکہ کی جانب سے حملے کی پیشگی اطلاع دی گئی تھی، اور کہا کہ حملے کے 10 منٹ بعد امریکی حکام نے رابطہ کیا۔ یہ حملہ غزہ جنگ بندی کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پولینڈ کی فضائی حدود میں روسی ڈرونز
روسی ڈرونز نے یوکرین پر حملے کے دوران پولینڈ کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس پر پولینڈ اور اس کے نیٹو اتحادیوں نے فوری ردعمل دیا۔ پولینڈ نے ان ڈرونز کو مار گرایا۔ پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے اس واقعے کو "بڑے پیمانے پر اشتعال انگیزی" قرار دیا۔
فرانس میں حکومت مخالف مظاہرے
فرانس میں حکومت مخالف مظاہرے، جنہیں "بلاگ ایوریتھنگ" (Block Everything) کا نام دیا گیا ہے، شدت اختیار کر گئے ہیں۔ پیرس سمیت ملک بھر میں ہونے والے ان مظاہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں تقریباً 200 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
چارلی کرک کا قتل
امریکی سیاسی کارکن اور ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کے شریک بانی چارلی کرک کو یوٹاہ میں ایک تقریب کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔