GK Ocean

📢 Join us on Telegram: @current_affairs_all_exams1 for Daily Updates!
Stay updated with the latest Current Affairs in 13 Languages - Articles, MCQs and Exams

September 10, 2025 بھارتی معیشت اور کاروبار کی اہم خبریں: 9 ستمبر 2025

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارتی معیشت اور کاروباری شعبے میں کئی اہم پیش رفت ہوئی ہیں۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان ایک اہم دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ اس کے علاوہ، جی ایس ٹی کونسل نے ٹیکس نظام کو آسان بنانے کے لیے اہم اصلاحات کی منظوری دی ہے۔ امریکی ٹیرف کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان، بھارت اپنی برآمدات اور خود انحصاری کو مضبوط بنانے پر زور دے رہا ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں بھارتی معیشت اور کاروباری منظرنامے میں کئی اہم پیش رفت سامنے آئی ہیں۔ ان میں بین الاقوامی معاہدے، ٹیکس اصلاحات اور برآمدات کے شعبے میں چیلنجز شامل ہیں۔

بھارت-اسرائیل دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدہ

بھارت اور اسرائیل نے 9 ستمبر 2025 کو ایک اہم دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے (BIT) پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ اسرائیل کے مطابق، یہ پہلا معاہدہ ہے جو بھارت نے اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (OECD) کے کسی رکن ملک کے ساتھ کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا، جس میں ریگولیٹری تبدیلیوں یا اثاثوں کی ضبطی جیسے خدشات کے خلاف یقین دہانی شامل ہے۔ تنازعات کے حل کے لیے آزادانہ ثالثی کا فورم بھی فراہم کیا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل اسموتریچ نے نئی دہلی میں اپنی بھارتی ہم منصب نرملا سیتا رمن سے ملاقات کے دوران اس معاہدے پر دستخط کیے۔

جی ایس ٹی نظام میں اصلاحات

9 ستمبر 2025 کو جی ایس ٹی کونسل نے ٹیکس نظام کو مزید مستعد اور شہریوں کے لیے سہولت آمیز بنانے کے لیے اہم اصلاحات کی منظوری دی ہے۔ کونسل نے بالواسطہ ٹیکس نظام کو چار زمروں (5%، 12%، 18%، 28%) سے بدل کر دو زمروں (5% اور 18%) میں تبدیل کر کے آسان بنایا ہے۔ اس اصلاح کا مقصد عام آدمی پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا (SBI) کی ایک رپورٹ کے مطابق، ان اصلاحات سے محصولات میں متوقع نقصان حکومت کے اندازے سے کافی کم ہو گا، جو صرف 3700 کروڑ روپے رہنے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شرح نمو اور کھپت میں اضافے کو دیکھتے ہوئے یہ معمولی نقصان مالیاتی خسارے پر کوئی اثر نہیں ڈالے گا۔

امریکی ہائر بل اور بھارتی آئی ٹی کمپنیوں پر اثرات

امریکی پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینیٹ میں پیش کیے گئے ایک نئے بل، جسے یو ایس ہالٹنگ انٹرنیشنل ری لوکیشن آف ایمپلائمنٹ (H.I.R.E.) بل کا نام دیا گیا ہے، نے ہندوستانی آئی ٹی کمپنیوں کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ اس بل میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی کمپنی کسی غیر ملکی کمپنی کو امریکہ میں استعمال ہونے والی خدمات کے لیے ادائیگی کرتی ہے تو اس کمپنی کو 25% ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بل ایک سیاسی چال ہو سکتی ہے اور اس کا فوری اثر ہندوستانی آئی ٹی صنعت پر نہیں پڑے گا، تاہم یہ غیر یقینی صورتحال کو بڑھا سکتا ہے۔

خود انحصاری اور برآمدات پر زور

بھارت کو امریکی ٹیرف کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ امریکہ نے حال ہی میں بھارتی برآمدات پر 50% اضافی ٹیرف عائد کیے ہیں، جو روس سے تیل اور ہتھیاروں کی خریداری کے تناظر میں لگائے گئے 25% اضافی جرمانے کے علاوہ ہیں۔ ان اقدامات سے بھارتی برآمدی صنعتیں، خاص طور پر ٹیکسٹائل، زیورات، ہیرے اور زرعی مصنوعات متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس صورتحال کے جواب میں، وزیر اعظم نریندر مودی نے بڑے ٹیکس ریلیف پیکیجز کا اعلان کیا ہے اور قوم سے "میڈ اِن انڈیا" یا "سوَدیشی" مہم کے ذریعے خود انحصاری کو اپنانے کی اپیل کی ہے۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے 8 ستمبر 2025 کو انجینئرنگ برآمدات کی فروغ سے متعلق کونسل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کی معیشت کے مزید خود کفیل ہونے اور برآمدات کے شعبے میں عمدہ کارکردگی کی ضرورت پر زور دیا۔

Back to All Articles